Smart Game Played by Imran Khan


کپتان نے بہت سمارٹ گیم کھیلی کل آخری ڈیڈ لائن تھی قومی اسمبلی کا اجلاس ایک پلیننگ کے تحت لیٹ کیا گیا آخری بال آخری چال آخری گھینٹہ آخری پتہ سب حواس باختہ تھے کیا ہونے جا رہا ہے اعصاب کی جنگ تھی سارا دن گزر گیا بات آخری لمحوں تک پہنچ گئی ٹھیکیداروں کے اعصاب جواب دینے لگے انہیں ساری محنت ضائع ہوتی نظر آئی جو اب تک پسِ پردہ چھپے بیٹھے تھے انہیں مجبوراً سامنے آنا پڑا ایکسپوز ہونا پڑا


آخری گھینٹے میں سب کو ایکٹو ہونا پڑا چھٹی کے دن آدھی رات کو عدالتی کوٹھے کھلے منصفان ریاست جوک در جوک پہنچنے لگے ساری اپوزیشن آدھی رات تک اسمبلی میں بیٹھی رہی وزیر اعظم ہاؤس میں ہیلی کاپٹر پہنچے قیدیوں والی گاڑیاں پہنچی لا انفورسمنٹ حرکت میں آہیں اور سب کنٹرول کیا جانے لگا اسی وقت کے لیے کپتان نے اتنی لمبی اعصابی جنگ لڑی کپتان نے میڈیا کو بلایا سب کچھ لاہو جا رہا تھا کپتان نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا کوئی رہ تو نہیں گیا جو میرے خلاف نہ ہوا ہو مطلب جو واضح طور پر قوم کے سامنے ایکسپوز نہ ہوا ہو صحافیوں نے کہا جی نہیں وہ اٹھا ڈائری اٹھائی اور وکٹری کا نشان بناتا ہوا گھر کی طرف چل دیا


بظاہر ہار گیا لیکن حقیقت میں یہی اسکی جیت تھی وہ سب پردہ نشینوں اور حرامیوں کے منہ سے نقاب نوچ کر جا رہا تھا وہ سب کوبینقاب کر کے جا رہا تھا قوم کو اصل مجرم دکھا کے جا رہا تھا اسکا مقصد پورا ہوا 74سالوں سے پردے کے پیچھے چھپے ہرکارےقوم کے سامنے بینقاب ہو چکے تھے یہی اسکی جیت تھی اور یہی خان کا ماسٹر اسٹروک تھا خان صاحب آپ نے وہ کر دکھایا جسکا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا آپ امر ہو گے قوم پر یہ آپکا احسان تاقیامت رہے گا پاکستان ضرور غلامی سے نکلے گا ہمارے آنے والی نسلیں آزاد ہوں گی آپکی محنت ضرور رنگ لاے گی آپ نے تاریخ رقم کر دی آپ کامیاب ہو گے سرخرو ہو گے اور تاریخ میں آپکا نام سنہری حروف میں لکھا جاے گا خدا اپ کا حامی و ناصر ہو پوری قوم آپ کے ساتھ ہے